بنگلورو،13؍دسمبر(ایس او نیوز)حکومت کرناٹک کی طرف سے انسداد گؤ کشی قانون کی کونسل میں منظوری کیلئے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے غیر معینہ مدت تک ملتوی شدہ کونسل کے اجلاس کو دوبارہ طلب کرلیا ہے۔
ریاستی حکومت کی ہدایت پر کونسل کی سکریٹری کے آر مہا لکشمی نے اس سلسلہ میں حکم نامہ جاری کیا ہے اور تمام ممبروں سے کہا ہے کہ منگل کی صبح 11بجے طلب کئے گئے اس اجلاس میں حاضر رہیں۔ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ایوان کے غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی شدہ اجلاس کو حکومت کی طرف سے دوبارہ طلب کیا گیا ہے۔ حکمران بی جے پی کی طرف سے یہ الزام لگایا گیا ہے کہ کونسل چیر مین نے اجلاس کے آخری دن جانبداری سے کام لیتے ہوئے کارروائیوں کے پورا ہونے سے پہلے ہی غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا۔
وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے جمعہ کے روز ہی یہ اشارہ دے دیا تھا کہ کونسل اجلاس کو دوبارہ طلب کیا جائے گا۔ جمعرات کے روز کونسل اجلاس کے اختتامی مرحلے میں بی جے پی کے ممبر آئنور منجوناتھ نے چیر مین پرتاپ چندر ا شیٹی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملہ کو اٹھایا۔ اس کے جواب میں چیر مین نے کہا کہ اس سلسلہ میں افسروں سے مشورہ کے بعد جو بھی جواب ہو گا اراکین تک پہنچا دیا جائے گا۔
اس کے بعد ایوان بالا کے لیڈر کوٹا سرینواس پجاری نے کہا کہ انسداد گؤ کشی بل جو اسمبلی میں پاس ہو چکا ہے اسے کل پیش کیا جائے گا۔ چیر مین نے ان کے اعلان پر توجہ نہیں دی اور اعلان کیا کہ حکومت کی ہدایت کے مطابق گرام پنچایت انتخابات کی وجہ سے اجلاس ختم کردیا جا رہا ہے اور کارروائیوں کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں انسداد گؤکشی قانون کو منظور کروانے کی کوشش میں بی جے پی حکومت نے جمعرات کے روز ایڑی چوٹی کا زور لگا یا۔
بتایا جاتا ہے کہ اس روز بی جے پی کے بعض وزراء نے جے ڈی ایس قائدین کو منانے کی کوشش بھی کی کہ وہ اس بل کے معاملہ میں خاموشی اختیار کرلیں۔ یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ بی جے پی کے ان وزراء نے بتایا کہ مرکزی بی جے پی قیادت کی طرف سے ان پر شدید دباؤ ہے کہ اس قانون کو منظور کروایا جائے۔ لیکن جے ڈی ایس نے بل کی تائید نہیں کی اور نہ ہی بل پیش کرتے وقت خاموشی اختیار کرنے کے مشورہ کو مانا۔ اس سے پریشان بی جے پی حکومت نے کرناٹک لیجس لیٹو کونسل کا اجلاس دوبارہ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔